KISSAN POST

امرود میں فروٹ فلائی کا کنٹرول

امرود کو عام طور پر   غریب انسان کا سیب کہا جاتا ہے اور اسے پوری دنیا میں مزیدار ، خوشگوار مہک اور غذائیت کی خوبی  کے لئے جانا جاتا ہے۔یہ ایک خوشگوار مہک کے ساتھ پییکٹین ، فاسفورس ، کیلشیم ، آئرن ، پوٹاشیم ، اور سوڈیم کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ امرود کے پھل میں دواؤں کی خاصیت اور اینٹی آکسیڈینٹ کا ایک اچھا ذریعہ ہے اور اینٹی کارسیجینک مادہ بھی ہے۔
مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے ، امرود کی پیداوار بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ تمام معروف عوامل میں ، کیڑے مکوڑوں کی اہمیت ہے۔ امرود پر متعدد قسم کے کیڑوں سے حملہ آور ہوتا ہے اور امرود کی 80 اقسام کے کیڑے درج کیے جاتے ہیں ، لیکن ان میں سے صرف چند ایک کو نقصان دہ حد پر آنے والے کیڑے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے .
کیڑے مکوڑوں میں ، پھلوں اور سبزیوں کے اچھےمعیارکو حاصل کرنے میں پھلوں کی مکھی(فروٹ فلائی) ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اور اس سے  کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اڑنے والے حشرات میں   پھلوں اور سبزیوں کی ایک وسیع رینج پر سب سے زیادہ نقصان  اور خطرناک کیڑوں میں سے ایک ہیں۔ پھلوں کی مکھیوں کو امرود کے پھلوں کی پیداوار کا ایک انتہائی تباہ کن کیڑوں کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس سے پیداوار میں نقصان ہوتا ہے اور پیداوار میں معیار کی کمی ہوتی ہے۔ یہ ریکارڈ کیا جاتا ہے ، کہ پھلوں کی مکھی سے 20 سے 80 فیصد تک باغات کا نقصان عام طور پر فصل کے علاقے ، موسم اور مختلف قسم پر ہوتا ہے۔
فروٹ فلائی کی زندگی کا دورانیہ
پھل کی مکھی جب کسی پھل اورسبزی پر حملہ آور ہوتی ہے وہاں سے پھل کے گلنے سڑنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ شروع شروع میں حملہ شدہ پھل ظاہری طور پر بالکل تندرست نظر آتا ہے پھر اس میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں نمودار ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور پھل پر بھورے رنگ کے نشانات نظرآنے لگتے ہیں ۔ بعد میں یہ پھل کمزور ہوکر گرجاتا ہے۔مادہ مکھی اپنے انڈے پکے پھلوں پر دیتی ہے ۔مارچ سے نومبر تک پھل کی مکھیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان دنوں درجہ حرارت پھل کی مکھی کے لئے سازگار ہوتا ہے اور دسمبر سے فروری تک ان کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔مادہ مکھی کا پھل کی سطح پر انڈے دینے کا انداز بھی نرالا ہے ۔ مادہ مکھی پھل کے چھلکے میں انڈے دینے والی سوئی (Ovipasitor)جیسے عضو کو چبھو کر بھورے سفید رنگ کے انڈے دیتی ہے۔ کچھ دنوں بعد ان انڈو ں میں سے سفید لمبی سنڈیاں نکل آتی ہیں اور پھل کے گودے میں داخل ہوکر اسے کھاتی ہیں۔ یہ تمام عمل پھل کے اندر ہورہا ہوتا ہے اس لئے اکثر کسان حضرات پھل کی مکھی کے حملے سے ناواقف ہی رہتے ہیں۔



پھل کے اندر موجود سنڈیاں جب مکمل طور پر بڑی ہوجاتی ہیں تو پھل کے چھلکے میں سوراخ کرکے باہر نکل آتی ہیں اور زمین پر گر پڑتی ہیں اور پیوپا میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔اس صورت حال میں کیڑا حالت جمود میں ہوتا ہے ۔ اس حالت سے یہ پردار مکھی نکل کر زمین سے باہر آجاتی ہے اور اس طرح اس کیڑے کی افزائش نسل جاری رہتی ہے۔ عام طور پر بالغ مکھی کا رنگ سرخی مائل بھورا ہوتا ہے اور اس کے دھڑ پر زرد رنگ کی دو لکیریں ہوتی ہیں۔



پھل کی مکھیاں عام طور پر آم ، آڑو، ناشپاتی ، لوکاٹ، مالٹا ، سنگترہ ، گریپ فروٹ، لیموں ، خوبانی ، انار ، کیلا ، جاپانی پھل ، امرود وغیرہ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ مادہ مکھی 4سے31انڈے دیتی ہے ۔ ان انڈوں میں سے موسم گرما میں 2سے 4دن میں اور موسم سرما میں 4سے 8دن میں بچے نکل آتے ہیں جو کہ گرمیوں میں 5سے19اور سردیوں میں 9سے 20دن میں کویا کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ ان کویوں میں سے گرمیوں میں 4سے 12دن میں اور سردیوں میں 12سے 30دن میں پردار مکھیاں نکل آتی ہیں ۔ گرمیوں میں بالغ مکھیوں کی زندگی کا دورانیہ 27سے 44دن تک اور سردیوں میں بھی 27سے 44دن تک زندہ رہتی ہیں۔
فروٹ فلائی کو کنٹرول کرنے کےطریقے:
پھلوں کی مکھی (فروٹ فلائی) کا کنٹرول ایک  چیلینج ہے کیونکہ تیسری انسٹار لاروا اسٹیج میں یہ  پھل کو گلا  کر گرا دیتا ہے.اور زمین پر گر کر مٹی میں چلا جاتا ہے.جہاں یہ پیوپا  اسٹیج گزرتا  ہے ۔ اس طرح لاروا گلے سڑے پھل اور پیوپا بننے کے لئے اگر زمین میں چلا گیا ہو.تو جو پیسٹی سائیڈز  پودے پر اسے  کنٹرول کرنے کے لئے سپرے ہوتی ہیں .یہ اس سے آسانی سے بچ جاتا ہے.
آج کل ENTOMOLOGIST اور ایکولوجسٹ انٹیگریٹڈ کیڑوں کے انتظام (آئی پی ایم) کو اپنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں کیونکہ آئی پی ایم معاشی نقصان کی حد پر پہنچنے سے پہلے کیڑوں کی آبادی کو کم کرنے کے لئے ایک ماحول دوست طریقہ ہے اور زرعی ماحولیاتی نظام کو رکاوٹ کے بغیر صحت مند فصل کی نشوونما پر زور دیتا ہے۔ امرود کے اس سنگین اور خطرناک کیڑوں  کے خلاف  انتظامی حکمت عملی وضع کرنے کے لئے اس مضمون میں ممکنہ اور مفید تکنیکوں کو شامل کیا گیا ہے۔  
کلچرل کنٹرول:
فصلوں کو کیڑوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے یا روکنے کے لئے کاشتکاری کے طریق کار میں ضروری تبدیلیوں کو کلچرل کنٹرول کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جلد برداشت:
پھل کی جلد برداشت مکھی کے حملہ  سے بچاسکتی ہے ، یعنی پھلوں پر پھلوں کی مکھی کے حملے سے جو قریب قریب پکے ہوئے پھلوں پر حملہ کرتے ہیں لیکن ان اقسام کے لئے نہیں جو چھوٹے ، سبز اور نہ توڑے جانےوالے چھوٹے پھلوں پر حملہ کرتے ہیں۔ جب پھل یا سبزی پھلوں کی مکھی کے حملے کا خطرہ نہیں رکھتے ہیں تو پختگی کے ایک مرحلے پر پھل کی برداشت کر  کے پھل کی مکھی کی بیماری سے بچنا ممکن ہے۔
فصلوں کی صفائی:
پھلوں کے درختوں کے آس پاس صفائی اور حفظان صحت کی بحالی ضروری ہے جو باباغ میں پھلوں کی مکھیوں کی آبادی کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ پھلوں کی مکھیوں کی رہائشی آبادی کو کم کرنے کے گرنے والے ، متاثرہ اور زیادہ پھلوں کے ذخیرے ختم کرنے کی تاکیدی صلاح دی جاتی ہے۔
مٹی کی ریکنگ:
امرود کے درختوں کے آس پاس  موجود گھاس اور دوسرا گند گھاس اکٹھا کرنے والے اوزار کے ذرے کیا جاتا ہے .تا کہ پودوں کے نیچے کی زمین صاف رہے.یوں مکھی کے پیوپا کو چھپنے  کے لئے مناسب جگہ نہیں مل پاتی .
پھلوں کی بیگنگ:
نشوونما کے دوران پھلوں کو مکھی  کے نقصان سے بچانے کے لئے بیگنگ کی جاتی ہے . اسمیں پھل کو پولی اتھین بیگ لگا کرڈھک دیا جاتا ہے . اس سے پھل کو  نقصان کے امکانات کو کم کیا جاسکتے ہیں ، فصل کی برداشت کے وقت   رنگ بہتر ہوسکتا ہے۔ جزوی طور پر سورج کی روشنی کے ل pol پولی پروپولین بیگ میں شفاف پولی پروپایلین بیگ (20μ گیج) بیگ اور کاغذ کے ٹکڑوں کے ساتھ انفرادی پھلوں کو لپیٹنا ’امرود پھل کی مکھی کے انتظام کے لئے  بہترین آپشن ہے۔
فروٹ فلائی کے نر کی نسبندی  کرنے  کی تکنیک (SIT):
جنگلی فروٹ فلائی جو ابھی پھل تک رسائی نہیں حاصل کر سکی ہوتیں میں ایک ایسا نر مکھیوں کا جتھا چھوڑ دیا جاتا ہے. جس کی  نسبندی کا کام شعاع ریزی ، کیمو  سٹریلایزیشن یا  پھلوں کی مکھیوں کے منتخب نرمیں جینیاتی ہیرا پھیری جسے میوٹیشن کہتے ہیں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایسے نر جب افزائش نسل کے لئے مادہ مکھیوں سے ملتے ہیں .، تو انکی جو اولاد پیدہ ہوتی ہے.وہ جینیاتی طور پر ایسی حالت میں ہوتی ہے .کہ نقصان کرنے سے پہلے ہی خود بخود مر جاتی ہے.
ٹریپ(پھندے):
تباہ کن لاروا مرحلے پر پھلوں کی مکھیوں(فروٹ فلائی) کا انتظام مشکل ہے کیونکہ دھول یا چھڑکنے کی شکل میں کیڑے مار ادویہ نشانے تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ ان سے نمٹنے کے طریقے یہ ہیں کہ وہ بالغ مکھیوں کو نشانہ بنائیں اس سے پہلے کہ وہ انڈے دیں.ا ان کی آبادی پر قابو پانے کے لئے ان کو پھنددوں میں پھنسا کر تلف کیا جائےیا کیڑے مار دوا استعمال کریں۔
میٹ (نر ختم کرنے پکڑنے کی تکنیک):
نر ختم کرنے کی تکنیک (ایم اے ٹی) ایک وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے اور یہ پھلوں کی مکھی کے انتظام کے لئے سب سے نمایاں متبادل ہے جو نر مکھیوں کو مار دیتا ہے اور کیڑے کے ملنے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ میتھایل یوجینول (Methyl eugenol) ایک نر کو کشش کرنے کا کیمکل ہے.جو کافی استعمال میں بھی ہے. اور 800 میٹر کے فاصلے سے پھلوں کی مکھیوں کو راغب کرنے کے لئے جانا جاتا ہے۔ مناسب ٹریپنگ تکنیک کے ساتھ میتھایل یوجینول جیسے پیرافرون کا استعمال بھی نگرانی کرنے ، نر ختم کرنے پکڑنےکی  تکنیک (MAT) کے ذریعے بڑے علاقوں پر پھلوں کی مکھیوں کو دبانے اور مختلف پھلوں کی مکھیوں کے مکمل خاتمے میں کامیاب پایا گیا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ باغات میں میتھائل یوجینال کے پھندے استعمال کیے جائیں ۔ میتھائل یوجینال نر مکھی کو اپنی طرف راغب کرتا ہے ۔ اس کیمیکل کی مقدار 95%اور کیڑے مار ادویات کی مقدار 5%ہونی چاہیے ۔ ان دونوں کا محلول بنا کر استعمال کرنا چاہیے ۔ اس محلول میں سے 1تا2ملی لیٹر روئی پر لگا کے پھندے کے اندر ڈال دیا جائے ۔ موثر تدارک کے لئے ضروری ہے کہ یہ پھندے پورا سال باغات میں لگے رہیں۔
میتھائل یوجینال روئی پر لگاتے وقت پھندے کے باہر نہ لگے کیونکہ مکھیاں پھر پھندے میں داخل نہ ہوں گی۔ پھندے سے نکالی ہوئی مکھیوں اور روئی کو گہرا زمین میں دبا دیںاور باغات کی صفائی کو یقینی بنایا جائے
بیٹ (فیمل فروٹ فلائی پکڑنے کی تکنیک):
بیٹ ختم کرنے کی تکنیک (بی اے ٹی) کو اہمیت حاصل ہورہی ہے کیونکہ یہ مادہ پھلوں کی مکھی (مادہ فروٹ فلائی)کو دبانے کے لئے ایک کامیاب اجزاء میں سے ایک ہے . کیونکہ نقصان کا اصل منبہ مادہ مکھی ہوتی ہے.جس کو اگر کنٹرول کر لیا جائے۔تو نقصان کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے .مادہ مکھی(فیمل فروٹ فلائی ) کو انڈے دینے کے لئے  پروٹین کا ذریعہ درکار ہوتا ہے جس سے نشوونما اور انڈے بھی پیدہ ہوں۔ پروٹین ہائیڈروالیزیٹ میں یہ خوبیاں پائی گیں . جس  کو فیمل فروٹ فلائی کو قید کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے .
قوارانٹین قوانین کو استعمال کرنے کی ضرورت:
پودوں کے اسٹاک کی ایک جگہ سے دوسری جگہ.ایک علاقے سے دوسرے علاقے .اور ایک ملک سے دوسرے ملک ترسیل کے دوران   اس قانون کو لاگو کرنے سے غیر فائدہ مند مٹیریل کو  ضایع کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے.اور غیر مناسب پودے اور بیمار پودوں کی نشان دہی سے بیماریوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے
کیونکہ پودوں کی نقل و حرکت متاثرہ ممالک سے غیر متاثرہ ممالک میںجا کر  انفکشن کا امکان ہوتا  ہے ، جہاں کیڑے موجود نہیں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح کے متاثرہ امرود پھل قبول نہیں کیے جا رہے ہیں۔ درآمدی ممالک کی جانب سے پھلوں کی مکھی (فروٹ فلائی) سے متاثر پھلوں پر قوارانٹین قانون عائد ہیں.۔ مختلف ممالک میں پھلوں کی مکھیوں کی بہت سی اقسام پر سخت قواراتیں قانون ہیں .
کیمیائی کنٹرول:
ایک واحد کنٹرول اقدام جیسے کیڑے مار دوا کا استعمال پھلوں کی مکھیوں کی افزائش میں مکمل کمی نہیں دے سکتا کیونکہ پھلوں اور سبزیوں میں لاروا کی وجہ سے ہونے والا نقصان داخلی ہے ، اور اس وجہ سے اس پر قابو پانا مشکل ہے۔ مصنوعی کیمیکل بہت زیادہ پریشانیوں کا سبب بنتا ہے کیونکہ پھل کچے کھائے جاتے ہیں اور زہریلے باقیات امرود کے باغ میں طویل عرصے تک مٹی میں رہتے ہیں خوردبینی  پودوں اور حیوانات کو متاثر کرتے ہیں۔مگر بعد قسمتی سے یہ کنٹرول ہمارے ملک میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے. جس سے صحت مند پھل کی تیاری تقریبا نہ ممکن ہے. اس لئے ہمارے ملک کے کسان کو اگر اپنے پھل کا باہر ملک بھیجنا ہے .تو انکو فروٹ فلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے قدرتی طریقہ استعمال کرنا ہوگا جس سے پھل کی کوالٹی بہت کم متاثر ہو اور اسکا اچھا  روپیہ ملے .ڈیلٹامتھرین،ڈیپٹریکس،کونفیڈور،ڈایازینون سپرے کیے جاتے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *