KISSAN POST

Canola کینولا کی کاشت

میٹھی سرسوں یا کینولا سرسوں کی ایسی قسم ہے جس کے تیل اور پیداوار کا معیار عام طور پر اگائی جانے والی سرسوں سے بہت بہتر ہے۔ اگر رایا، سرسوں اور توریا کی بجائے کینولا کاشت کیا جائے تو تیل کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ روایتی سرسوں کے تیل میں مضر صحت اجزاء اروسک ایسڈ اور گلوکوسائنولیٹ قدرتی طور پر زیادہ مقدارمیں موجودہوتے ہیں۔ جبکہ اس کی کھلی جانوروں کو مستقل طور پر خوراک میں استعمال کرانے سے انہیں بیمار کر سکتی ہے۔ کینولا کے تیل اور کھلی میں یہ اجزاء نہ ہونے کے برابر موجود ہوتے ہیں۔ اس لئے کینولا کے تیل کو انسانی خوراک میں اور کھلی کو جانوروں کی خوراک میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کینولا کا وقت کاشت شمالی پنجاب کے علاقہ جات کیلئے وسط ستمبر سے آخر اکتوبر جبکہ وسطی اور جنوبی پنجاب کیلئے یکم سے آخر اکتوبر تک ہے۔محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام پنجاب کینولا،فیصل کینولا، آری کینولا، ہائیولا 401 اور رستم کینولا کا صحتمند اور صاف ستھرا بیج ڈیڑھ سے دو کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔ کینولا کو کلراٹھی اور سیم زدہ زمینوں کے علاوہ ہر قسم کی زمین پر کاشت کیا جا سکتا ہے۔ کاشت سے پہلے زمین کو اچھی طرح تیار کریں۔ بہتر اگاؤ کیلئے اگر وافر پانی میسر ہو تو دوہری راؤنی کریں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں۔ وریال زمین کی تیاری کیلئے 2 سے 3دفعہ ہل چلا کر 2 دفعہ سہاگہ دیں۔ دیگر فصلات کی برداشت کے بعد زمین تیار کرتے وقت 3 سے 4 دفعہ ہل چلا کر 2 دفعہ سہاگہ دیں جبکہ بارانی علاقہ جات میں زمین کی تیاری اور وتر کی سنبھال کیلئے 2 سے 3 دفعہ ہل چلا کر 2 دفعہ سہاگہ دیں۔
کینولا کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے فصل کی کاشت قطاروں میں کریں اور قطاروں کا آپس میں فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں۔ فصل کو تر وتر میں بذریعہ پور یا ڈرل کاشت کریں جبکہ چھٹہ کے ذریعہ بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ کینولا کی ڈھلوان کھیت میں کاشت کیلئے رجر کے ساتھ وٹ بندی کر کے وٹوں کا درمیانی فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں اور خشک زمین میں وٹ بندی کر کے کاشت کرنے کیلئے بیج کو گیلی بوری میں 8 گھنٹے تک رکھنے کے بعد کاشت کریں۔
کینولا کی بہتر پیداوار کیلئے 1 بوری یوریا، 1 بوری ڈی اے پی اور1 بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔ آبپاش علاقوں میں ڈی اے پی اور پوٹاشیم سلفیٹ کی پوری مقدار زمین کی تیاری کے وقت اور یوریا کی آدھی مقدار پہلے پانی پر اور باقی مقدار پھول نکلتے وقت پانی کے ساتھ ڈالیں۔ پھول نکلتے وقت 10 کلوگرام فی ایکڑ سلفر کا محلول بنا کر آبپاشی کے ساتھ دینے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
کینولا کی فصل کو کم از کم تین آبپاشیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا پانی فصل اگنے کے ایک ماہ بعد، دوسرا پانی پھول نکلتے وقت اور تیسرا پانی بیج نکلتے وقت لگائیں۔جب پودے چار پتے نکال لیں تو کمزور پودے اکھاڑ کر پودوں کا درمیانی فاصلہ چار سے چھ انچ تک کر دیں۔ پہلا پانی لگانے سے پہلے پودوں کی چھدرائی ہر صورت مکمل کریں۔ اچھی پیداوار کیلئے پودوں کی کم از کم تعداد 60 ہزار فی ایکڑ ہونا ضروری ہے۔
جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کرنے سے فصل بیماریوں اور ضرر رساں کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رہتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کی غیر کیمیائی طریقہ سے تلفی کرنے کیلئے پہلی گوڈی پہلا پانی لگانے سے پہلے اور دوسری گوڈی پہلا پانی لگانے کے بعد وتر آنے پر کریں۔ اس طریقہ سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں۔زمین نرم ہونے کی وجہ سے پودوں کو بہتر ہوا اور غذا ملتی ہے جس سے پودوں کی نشوونمابہتر اور پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ کیمیائی طریقہ سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کرنے کیلئے فصل کی بوائی مکمل کرنے کے فوراً بعد وتر میں ایس میٹولا کلور بحساب 800 سے 1000 ملی لٹر120 لٹر پانی میں ملا سپرے کریں۔
بیماریاں اور تدارک:۔ کینولا کی فصل پر مختلف قسم کی بیماریاں حملہ آور ہو سکتی ہے جن سے فصل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
وبائی جھلساؤ : پودے کے پتوں اور تنے پر ہم مرکز دائروں کی شکل میں خاکی رنگ کے دھبے بن جاتے ہیں۔ شدید حملے کی صورت میں پھلیوں پر دھبے بن کر بعد میں سوراخ ہو جاتے ہیں زیادہ تر اس بیماری کا حملہ اس وقت نمودار ہوتا ہے جب فصل تقریباً اپنا بیج بنا چکی ہوتی ہے شدید حملہ کی صورت میں بیج سکڑا ہوا اور چھوٹے سائز کا ہوتا ہے جس سے پیداوار کم ہوتی ہے اور بیج سے تیل بھی کم نکلتا ہے۔ اس بیماری کے انسداد کیلئے بیج کو کاشت سے پہلے تھائیوفینیٹ میتھائل 2.5 گرام فی کلوگرام لگائیں جبکہ فصل پر بیماری ظاہر ہونے کی صورت میں بھی مذکورہ زہر 2.5گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر پندرہ دن کیلئے سپرے کریں۔
سفوفی پھپھوندی :۔ سفید رنگ کے سفوفی دھبے پتوں کے دونوں اطراف اور باقی سبز حصوں پر نمودار ہوتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں پتے گر جاتے ہیں، تنا گل جاتا ہے، پھلیاں اور بیج کم بنتے ہیں۔ اس بیماری کے تدارک کیلئے تھائیو فینیٹ میتھائل بحساب 2 گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
تنے کا گلنا یا جھلساؤ : پتوں کے اوپر والی سطح پر دھبے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کے پتوں اور چھوٹی شاخوں پر سفید رنگ کے نرم و ملائم دھبے نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو کہ وقت کیساتھ ساتھ سیاہ رنگت اختیار کر لیتے ہیں اور تنا گل کے ٹوٹ جاتا ہے۔ بعد میں جراثیم کے سیاہ رنگ کے سپور پک کر ہوا کے ساتھ کھیت میں بکھر جاتے ہیں۔ اس کے انسداد کیلئے ڈائی فینا کو نازول بحساب1 ملی لیٹر فی لیٹر اور کار بینڈ ازم بحساب2 ملی لیٹر فی لٹر دونوں پانی میں ملا کر سپرے کریں
ضرررساں کیڑے اور انسداد: کینولہ کی فصل پر حملہ آور ہونے والے ضرر رساں کیڑے اور ان کا انسداد درج ذیل ہے۔
سرسوں کی آرادار مکھی: یہ مکھی اکتوبر اور نومبر میں نئی فصل پر حملہ آور ہوتی ہے۔ اس کی صرف سنڈیاں ہی نقصان کرتی ہیں۔ اس کے انسداد کیلئے سپائنو سیڈ 240 ای سی بحساب100 ملی لٹر یا لیمبڈا سائی ہیلو تھرن 2.5 ای سی بحساب300 ملی لٹرفی ایکڑ سپرے کریں۔
مولی بگ:۔ یہ کیڑا فصل پر اکتوبر اور نومبر میں حملہ کرتا ہے۔ بالغ اور بچے دونوں پتوں اور شگوفوں سے رس چوستے ہیں جس کی وجہ سے پتے پیلے ہو کر خشک ہو جاتے ہیں اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس کے انسداد کیلئے کاربوسلفان20 ای بحساب500 ملی لٹر یا لیمبڈا سائی ہیلو تھرن 2.5 ای سی بحساب300 ملی لٹرفی ایکڑ سپرے کریں۔
سر سو ں کا سست تیلہ: یہ گچھوں کی شکل میں پودوں کے مختلف حصوں شگوفوں، پھول، پتے اور تنے پر چمٹے نظر آتے ہیں۔ بالغ اور بچے پتوں، تنوں، شگوفوں اور پھولوں سے رس چوستے ہیں۔ پتے چڑ مڑ ہو جاتے ہیں اور پھول پھلیاں بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ حملہ شدہ پھلیوں میں بیج نہیں بنتا۔اس کے انسداد کیلئے کاربوسلفان20 ای سی بحساب500 ملی لٹر یا بائی فینتھرن10 ای سی بحساب205 ملی لٹر 100

لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
گوبھی کی تتلی : بالغ تتلی سفید رنگ کی ہوتی ہے۔ نر تتلی کے اگلے پروں کی سطح پر سیاہ دھبے نہیں ہوتے بلکہ مادہ کے اگلے پرون پر دونوں طرف سیاہ دھبے واضح ہوتے ہیں۔ پہلی حالت کی سنڈی صرف پتوں کی سطح کو کھرچتی ہے لیکن بعد میں یہ کناروں سے شروع ہو کر تمام پتے کو کھا جاتی ہے صرف پتوں کی رگیں باقی رہ جاتی ہیں۔ اس کے انسداد کیلئے ایلفا سائپرمیتھرین 10 ای سی یا ایلفا سائپر میتھرن 5 ای سی بحساب200 ملی لٹرفی ایکڑ سپرے کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *