KISSAN POST

چاول کی کاشت

دھان خریف کی اہم نقد آور فصل ہے۔گندم کے بعد خوردنی اجناس میں سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے۔

انڈیا،ویت نام اور تھائی لینڈ کے بعد چاول کی برآمد میں چوتھے نمبر کا ملک ہے۔

ہماری اوسط پیداوار تقریباً 34من فی ایکڑ ہے جبکہ کئی ممالک میں یہ پیداوار دو گنا سے بھی زیادہ لی جا رہی ہے۔

کاشتکاری کے بہتر عوامل درج ذیل ہیں:

۱۔زیادہ پیداواری صلاحیت والی اقسام کی کاشت

۲۔فصل کی بروقت کاشت اور برداشت

۳۔فی ایکڑ پودوں کی مناسب تعداد

۴۔جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی

۵۔کھادوں کی مناسب مقدار اور انکا بروقت استعمال

۶۔پانی کا مناسب استعمال

۷۔نقصان دہ بیماریوں اور کیڑوں سے بر وقت تحفظ اور تدارک

۸۔زمین کی زرخیری بحال رکھنے کیلے ضروری اقدامات

۹۔فصل کی بر وقت کٹائی اور پیداوار کی بہتر سنبھال

زیادہ پیداواری صلاحیت والی اقسام:

موٹی اقسام:

۱۔کے ایس 282:
اس قسم کی پر ایکڑ پیداواری صلاحیت سو من تک ہے اور اسے اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

۲۔ایری 4:
اس قسم کی پر ایکڑ پیداواری صلاحیت 80من تک ہے اور اسے بھی اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

۳۔نیاب ایری 9:
اسے قسم کی پیداواری صلاحیت پر ایکڑ 70من تک ہے اسے درمیان میں کاشت کیا جاتا ہے نا اگیتا اور نا ہی پچھیتا۔

۴۔کے ایس کے 133:
اس قسم کی پر ایکڑ پیداواری صلاحیت 105من تک ہے اور اسے بھی اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

۵۔کے ایس کے 434:
اس کی پر ایکڑ پیداواری صلاحیت 105من تک ہے اور اسے بھی اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

نوٹ: آلو،مٹراور برسیم کے کاشتکاروں کیلے کے ایس کے 434,اور کے ایس کے 133

بہترین باسمتی اقسام:

۱۔باسمتی ۳۸۵:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت ۵۵من فی ایکڑ ہے اور اگیتی کاشت کی جاتی ہے۔

۲۔سپر باسمتی:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت ۶۰من فی ایکڑ ہے اور اسے بھی اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

۳۔شاہین باسمتی:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت ۵۰من فی ایکڑ ہے اور اسے اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

۴۔باسمتی ۵۱۵:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت ستر من فی ایکڑ ہے اور درمیانی کاشت کی جاتی ہے۔

۵۔بی ایس ۲:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت پینسٹھ من فی ایکڑ ہے اور اسے بھی اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

۶۔بی کے ۳۸۶:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت ۶۰ من تک ہے اور اسے اگیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

۷۔کسان باسمتی:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت باسٹھ من فی ایکڑ ہے اور اس سے پچھیتی کاشت کی جاتی ہے۔

۸۔پنجاب باسمتی:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت پینسٹھ من فی ایکڑ ہے اور اسےاگیتی کاشت کیلے لگایا جاتا ہے۔

۹۔چناب باسمتی:
اس قسم کی پیداواری صلاحیت پینسٹھ من پر ایکڑ ہے اور اسے اگیتی کاشت کیلے لگایا جاتا ہے۔

ہائبریڈ اقسام:

ہائبریڈ اقسام میں
✔۔پی ایچ بی 7

✔۔وائے 26

✔۔شہنشاہ 2

✔۔پرائیڈ اور ارائنر

ممنوعہ اقسام:

کشمیرا،مالٹا،سپر فائن،سُپرا اور سُپری۔

شرح بیج:

موٹی اقسام چھے سے سات کلو کدو کے طریقے میں اور خوشک طریقے میں آٹھ سے دس کلو پر ایکڑ بیج استعمال کریں۔

باسمتی اقسام ساڑھے چار کلو سے پانچ کلو کدو کے طریقے میں اور چھے سے سات کلو خوشک طریقے میں۔ پر ایک بیج استعمال کریں۔

بیج کو زہر الود کرنا:

بیج کو ڈئی نیسٹی یا ایزاکسی سٹرابن +ڈائی فینو کونازول کے مکچر سے ٹریٹ کریں۔

وقتِ کاشت پنیری:

موٹی اقسام:

بیس مئی تا سات جون

باسمتی اقسام:

یکم جون تا بیس جون

پنیری کی منتقلی:

25سے تیس دن کی نرسری منتقل کریں تاکہ اس کی مناسب شگوفہ سازی ہو سکے۔

کھاد کا استعمال:

دھان کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کیلے زمین کی تیاری کے بعد پنیری منتقل کرنے سے پہلےدو سے تین بوری سنگل سپر فاسفیٹ ڈالیں۔

اور پنیری منتقلی کے دو سے تین دن بعد آدھی بوری یوریاترجیحاً شام کے وقت چھٹا کریں۔

پنیری کی منتقلی کے پندرہ سے بیس دن بعد آدھی بوری یوریا،آدھی بوری گوارہ اور تین سے پانچ کلو زنک سلفیٹ ڈالیں۔نیز اس کے بعد ہر ہفتے بعد پانچ سے دس کلو ایس او پی فرٹیگیٹ کریں۔

اور پنیری کی منتقلی کے بعد چالیس سے پنتالیس دن کے اند آدھی بوری یوریا اور آدھی بوری گوارا یا آدھی بوری یوریا اور آدھی بوری نائٹروفاس ملا کر دیں۔

ساٹھ من فی ایکڑ پیداوار حاصل کرنے کیلئے چونتیس سے چھتالیس کلو گرام۔۔۔۔ نائٹروجن چھتالیس سے ساٹھ کلو گرام(پچیس سے تیس کلو یورک نائٹروجن اور دس سے پندرہ کلو نائٹریٹ اور امونیکل نائٹروجن)۔۔۔۔بیس سے پچیس کلو پوٹاش پر ایکڑ استعمال کریں۔

اجزائے صغیرہ:
بوران۱۱فیصد پچاس گرام یا پانچ فیصد سو ملی لیٹر فی ایکڑ مونجر یا سیٹا نکلنے سے قبل دو سے تین سپرے کریں۔

فیرس سلفیٹ ۱۰۰سے ۱۵۰گرام فی ایکڑ مونجر یا سیٹا نکلنے سے قبل دو سے تین سپرے کریں۔

تلفی جڑیبوٹیاں:
کیلی اون (رفٹ) پنیری منتقلی کے دو سے تین دن کے اند کھڑے پانی میں شیکر بوتل کے ذرئعےفی ایکڑ چار سے پانچ چکروں میں چھڑک دیں۔

اگی ہوئی جڑیبوٹیوں کی تلفی کیلے:
کلور یا پارسل یا زیبرایا وِنسٹا یا پائرانکس ایک سو بیس گرام فی ایک سو بیس لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔

دھان کے ضرر رساں کیڑے اور حل:

۱۔ٹوکا یا ٹیڈا:
اس کے حل کیلئے بائی فینتھرین دو سو پچاس ملی لیٹر فی سو لیٹر پانی میں سپرے کریں۔

۲۔تنے کی سفید،ذرد اور گُلابی سنڈیاں:

فائپرونل چار سو اسی ملی لیٹر یا ریجنٹ تیس گرام فی سو لیٹر پانی کے حساب سے سپرے کریں۔
یا ورئیکو چار کلو گرام یا ریفری آٹھ کلو گرام یا کارٹیپ دس کلو گرام پر ایکڑ چھٹا کریں۔

نوٹ:
فصل میں پانچ فیصد سوک یا روشنی کے پھندوں میں آٹھ سے دس پروانے آنے پر زہر آپاشی کریں۔
۳۔پتہ لپیٹ سنڈی:
لیمڈا سائی ہیلو تھرین دو سو ملی لیٹر یا گیما سائی ہیلو تھرین 75ملی لیٹر سو لیٹر پانی کے حساب سے سپرے کریں۔

یا ویرٹی کو چار کلو گرام یا کرٹیپ نو سے دس کلو گرام چھٹا کریں۔

۴۔سفید پُشت والا یا بھورا تیلا \ہاپر:
کاربو فوران آٹھ سے دس کلو فی ایکڑ چھٹا کریں یا فوگر مشین یا پاور سپرئیر کے ذرئعے نائیئن پائیرم +ہائی میٹرو زین سو گرام فی سو لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔

دھان کی بیماریاں:

۱۔پتوں کا جراثیمی جھلساؤ بیکٹیریل لیف بلائیٹ:

کوباکس یا کاپر آکسی کلورائیڈ تین سو گرام سو لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں یا بورڈو مکسچر سپرے کریں۔

۲۔دھان کا بھبھکا:
ریکارڈو یا الیکٹس سپر یا نانوک یا ایزامائیٹ سپر ے کریں۔

۳۔براؤن لیف سپاٹ:
ریکارڈو الیکٹس کا سپرے کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *