KISSAN POST

 پپیتا کی کاشت کاری

 پپیتا کی کاشت کاری کیلئے بوائی کی تکنیک ، آب و ہوا اور مٹی کی ضرورت . پودے لگانے کا سیزن ، تحفظ اور بیماریوں کا بہترین انتظام۔

پپیتا کو پوری دنیا میں “کاریکا” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پھل کا ابّائی گھرٹراپیکل خطہ امریکہ زیادہ تر میکسیکو اور کوسٹا ریکا کا علاقہ ہے۔ پاپائے کی اعلی غذائیت اور طبی قدر کی وجہ سے اس کی ایک خاص اہمیت ہے۔پپیتے کی کاشت میں ہندوستان سرفہرست ہے ، ہندوستان میں پپیتے کی سالانہ پیداوار تقریبا 3 30 لاکھ ٹن ہے۔ کچھ دیگر معروف پروڈیوسر برازیل ، میکسیکو ، انڈونیشیا ، چین ، تھائی لینڈ ، نائیجیریا اور فلپائن ہیں۔پاکستان میں پپیتا سندھ کے علاقوں میں کاشت ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن اب اسے پنجاب میں بھی کاشت کرنے کا رواج چل پڑا ہے. ویسے تو پپیتا پورے پنجاب میں لگایا جا سکتا ہے لیکن بالائی پنجاب میں پپیتے پر بیماری کا حملہ قدرے زیادہ ہو سکتا ہے

پپیتا کی اقسام

ویسے تو اب کینیڈین پپیتے کا بھی نام سنا جا رہا ہے لیکن تا حال پنجاب میں ریڈ لیڈی ورائٹی سب سے زیادہ کاشت کی جا رہی ہے. بعض فارم پر ریڈ لیڈی کے علاوہ سنٹا ورائٹی بھی کاشت کی گئی ہے ، تجربہ سے سنٹا ورائٹی ریڈ لیڈی سے قدرے بہتر ہے. سنٹا کا تنا زیادہ مضبوط ہے اس لئے اس کے ٹوٹنے اور گرنے کا خدشہ کم ہے. دیگر حوالوں سے دونوں ورائٹیاں برابر ہیں.دیگر ورایٹیوں میں  کچھ یہ ہیں.جن پر بھارت میں کام ہوا ہے.

ہنی ڈیو:

یہ مردانہ پودوں کی کم فیصد کے ساتھ متشدد ہے اور بیجوں ، نیم لمبا قسموں ، نالیوں پر بہت نچلے پھل کم پھل کی قسم کے مطابق ہے۔

سن رایزسولو:

اسے ’’ سولو ‘‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ایک آدمی آسانی سے ایک پھل کھا سکتا ہے۔ یہ مختلف قسم کے ہوائی سے ہے جس میں چھوٹے سائز کے پھل ، پیرائفارم اور پیلے رنگ کا سنتری کا گودا ہے۔ اس کے رکھنے کا معیار بھی اچھا ہے۔

کورگ ہنی ڈیو:

مختلف قسم کے مرد پودوں کی پیداوار نہیں کرتے ہیں۔ اس کے پودے یا تو ہیرمفروڈائٹ ہیں یا مادہ۔ خواتین پودوں پر اٹھائے جانے والے پھل لگ بھگ بیج کے ہوتے ہیں اور بہترین معیار کے ہوتے ہیں۔

واشنگٹن:

یہ پودے زوردار ، تنے اور پتے کے ڈنٹھوں کے ساتھ جامنی رنگ کے ٹنگ کے ساتھ ہوتے ہیں ، پھل درمیانے درجے سے بڑے ، گول سے بیضوی ، میٹھے ، گودا نارنجی رنگ کے ذائقہ کے ساتھ ہوتے ہیں۔

پپیتا کی افزائش کا طریقہ:

پپیتے کے بیجوں کو ضروری طور پر پودوں سے صحت مند پکے پھلوں سے جمع کرنا ہوگا جو کیڑوں اور بیماریوں سے پاک ہیں۔ یہ پھل عام طور پر بیجوں کے ذریعہ پھیلایا جاتا ہے۔ نیز ، جرمینیشن  کو جلداور بہترانداز  میں ہونے لے لئے کوٹنگ (ایریل / سرکوٹیسٹا) کو دور کرنے کے لئے راکھ کے ساتھ ملنا چاہئے۔

لیکن ، بیجوں کو ہوا تنگ کنٹینر میں 45 دن کے لئے ذخیرہ کیا جاسکتا ہے اور 100 سینٹی گریڈ میں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ بوائی سے پہلے ،جرمینیشن  کی فیصد کو بڑھانے کے لئے بیجوں کو 100 پی پی ایم  جبرلیک ایسڈ  کی سلوشن میں بھگو دیں۔یہ عمل بیج کی جرمینیشن کو بڑھاتا ہے.

پپیتے کے بیج آپ کو بیج کی بڑی بڑی دکانوں سے باآسانی مل جائیں گے. ویسے نرسریوں والے 50 روپے سے لیکر 100 روپے تک پودا بیچ رہے ہیں. پتوکی سے آپ کو پپیتے کا پودا 50 روپے تک مل سکتا ہے. لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ اپنی نرسری خود تیار کریں کیونکہ پنیری خریدنے والا کام خاصا مہنگا ہے

آٹھ، نو ہزار روپے میں 10 گرام بیج کا پیکٹ ملتا ہےجس میں تقریبا 800 بیج ہوتے ہیں. ایک ایکڑ میں لگانے کے لئے آپ کو تقریبا 8 سو سے 9 سو تیار پودے چاہئیں. لہذا اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیج خریدیں

پاکستان میں پپیتے کی کاشت کے لئے جو طریقہ باغبان استعمال کر رہے ہیں.وہ کچھ یوں ہے. کہ

پپیتے کی پنیری تیار کرنے کے لئے چھ تین انچ کی تھیلیوں میں بھل مٹی بھرلی جاتی ہے اور پھر اس بھل مٹی کے اوپر کم از کم دوانچ پیٹ ماس ڈال دی جاتی ہے
بھل مٹی اور پیٹ ماس سے تیار شدہ تھیلیوں میں پپیتے کا بیج لگا دیا جاتا ہے

ایک ایکڑ کی پنیری لگانے کے لئے تھیلیاں سوا کنال جگہ گھیر لیتی ہیں

پپیتے کا بیج کب لگانا چاہئیے اور پنیری کھیت میں کب منتقل کرنی چاہئے؟

ویسے تو پپیتے کا بیج کسی بھی موسم میں لگایا جا سکتا ہے لیکن پنجاب میں کاشتکاروں کا تجربہ یہ بناتا ہے کہ بیج لگانے کا بہترین وقت جون، جولائی کا مہینہ ہے. جون، جولائی میں لگے ہوئے بیج 2 مہینے بعد ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے ہو جاتے جنہیں اگست ستمبر میں کھیت میں منتقل کر دیا جاتا ہے
اگر 100 بیج لگائے جائیں تو 50 بیج اگتے ہیں اور اگر پنیری کے 50 پودے کھیت میں منتقل کئے جائیں تو 25 پودے کامیاب ہوتے ہیں. البتہ کچھ دوسرے کاشتکار یہ بھی کہتے ہیں کہ بیج اور نرسری کی کامیابی کا تناسب تقریباََ 70 فی صد تک ہے.یہ بات ذہن میں رہے کہ نرسری تیار کرنا ایک حساس کام ہے. خاص طور پر پانی کے چھڑکاؤ کے ذریعے زمین کو نم رکھنا بہت ضروری ہے. اسی طرح شدید سردی اور شدید گرمی بھی بیج اور پودوں کی کامیابی پر منفی اثر ڈالتی ہے. جبکہ    کچھ تحریری  کاشتکاری میں یہ طریقہ درج ہے.

پپیتا کی کاشتکاری کیلئے بوائی کا عمل کیا ہے

پودے لگانے سے 6 ہفتہ قبل پپیتا کے بیجوں کو پولی بیگ (150 گیج کے ساتھ 22×15 سینٹی میٹر) میں بویا جاسکتا ہے۔ میڈیا کو فارملین سلوشن استعمال کرکے ڈس انفیکٹ کیا جانا چاہئے ، 4  بیج فی پولی بیگ بوئے جانا چاہئے ، اگر یہ متنوع قسم یا 2 جنس ہے ، یا اگر یہ ہیرمفروڈائٹ(دونوں جنس ایک پودے میں ) قسم ہے۔بیجوں کو بھی اٹھائے ہوئے نرسری بیڈ میں بویا جاتا ہے۔ ایک ہیکٹر رقبے پر لگانے کے لئے لگ بھگ 350 گرام بیج کی ضرورت ہے۔بیج پھوٹنے کا عمل  بوائی کے 2-3 ہفتوں میں ہو سکتاہے۔ لگ بھگ 6-7 ہفتوں کی پرانی پودوں کی پیوند کاری کے لئے تیار ہے۔

پپیتا کی کاشتکاری کے لئے آب و ہوا اور مٹی کی ضروریات

آب و ہوا کی ضرورت میں ٹروپیکل ہے۔پپیتا کے پودے کو گرم مرطوب آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کاشت سطح سمندرسے 1000-1200 میٹر بلندی تک کی جاسکتی ہے۔یہ درجہ حرارت 38 سے 40 سینٹی گریڈکے درمیان اچھی طرح پروان چڑھتا ہے ، اور زیادہ سے زیادہ حد  60 سینٹی گریڈ ہے ، جس میں ایک دن کا درجہ حرارت 35C اور رات کا درجہ حرارت25 سینٹی گریڈ سب سے زیادہ موزوں ہے۔اس کو زرخیز مٹی کی ضرورت ہوتی ہے ، گہری مٹی اور ککڑی دار اور پتھریلی مٹی مناسب نہیں ہوتی ہے اور اچھی طرح سے سوجھی ہوئی مٹی کے نیچے اچھی طرح سے بڑھتی ہے جس کی پی ایچ 6سے7 ہوتی ہے۔

یاد رکھیں .پیپتے کے لئے مَیرا زمین ہی موزوں ہے. ریتلی اور زیادہ چکنی زمینوں میں پپیتا کاشت نہیں کرنا چاہیئے. یہ بات بھی نہائیت اہم ہے کہ آپ کی زمین اچھے نکاس والی ہو. ایسی زمین جس میں پانی زیادہ دیر تک کھڑا رہے پپیتے کی کاشت کے لئے بالکل مناسب نہیں ہے.

پودے کتنے فاصلے پر لگیں گے؟

جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ ایک ایکڑ میں 8 سو سے لے کر 9 سو پودے لگائے جاتے ہیں. یہ تعداد پوری کرنے کے لئے پودے سے پودے کا فاصلہ 9 فٹ اور قطار سے قطار کا فاصلہ 8 فٹ رکھا جاتا ہے

 

پپیتا کی فصل کیلئے پودے لگانے کا بہترین موسم کب ہے؟

پپیتے کے پودے لگانے کے لئے بہترین موسم مون سون (جون جولائی) ہے۔ آپ بہار کے وقت (فروری تا مارچ) اور خزاں (اکتوبر سے نومبر) میں بھی پودے لگ سکتے ہیں۔ تاہم ، مون سون اس کے لئے بہترین موسم ہے۔

پپیتا کی کاشتکاری میں پپیتا کے دو پودوں کے درمیان وقفہ کاری:

پپیتا کی کاشت کے گڑھے کے سائز 1-1.5 کیوبک فٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی کھدائی 1.8 x 1.8m یا 2.4 x 2.4m کے فاصلے پر ہوتی ہے اور 30-40 کلوگرام ایف وائی ایم سے بھر کر 25 گرام ایلڈرین 5٪ دھول گڑھے میں شامل ہوجائے گی اور اوپر کی مٹی سے بھر جائے گی .

اعلی کثافت پودے لگانے:

پپیتازیادہ کثافت والے پودے لگانے کے لئے 1-1.5 مکعب فٹ کے گڑھے کا سائز 1.2 x 1.2m پر کھودنا چاہئے اور 30-40 کلوگرام گلی سڑھی گوبر سے بھرنا 25 گرام الڈرین organo-) chlorine insecticide)کے ساتھ 5٪ دھول گڑھے میں دی جائے. اور اوپر کی مٹی ڈال دی جائے.

پپیتا کاشتکاری میں پھول۔

پپیتا کی کاشتکاری میں ، پودے لگانے کے عمل کے 5–6 ماہ بعد پھول پھولنا شروع ہوجاتے ہیں۔ جب پودوں کی جنس کی نشاندہی کی جائے تو ، اضافی نر پودوں (لمبے لمبے 1-11 / 2 میٹر پھولوں کی ڈنڈی والے پودوں میں چھوٹی نلی نما پھول ہوتے ہیں جس میں صرف اسٹیمن ہوتا ہے) ، ہر 10 خواتین پودوں کے لئے ایک مرد پودوں کو افزائش  کے طور پر رکھتے ہوئے باقی کو ہٹا دیا جاسکتا ہے۔ . مرد پودوں کو ہٹا دیں اور پھول پھولنے کے بعد ہر 10 پودوں کے لئے ایک مرد پودے کو برقرار رکھیں۔

پپیتا کی کاشتکاری میں انٹر کراپنگ:

پپیتا کی کھیتی باڑی میں انٹر کراپنگ کی جا سکتی ہیں۔ سب سے پہلے پپیتے کے پودے لگانے سے لے کر چھ ماہ تک مختلف مختصر مدت کی سبزیاں اگائیں۔

پپیتا کی کاشتکاری میں پانی کی آبپاشی:

پپیتا کی کاشتکاری کے لئے رنگ آب پاشی کا نظام استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے نظام کے لئے ، موسم سرما میں 8-10 دن اور موسم گرما میں 6 دن میں پپیتے کے پودے کو سیراب کریں۔

پپیائی کی کٹائی اور ذخیرہ کرنا:

اوسطا پیداوار 30 سے ​​80 ٹن فی ہیکٹر ہے۔

پودے لگانے کے 10 مہینے بعد برداشت ہوتا ہے۔ تاہم پودے کی زندگی  صرف 3-4 سال ہے۔ جب پھل ہلکے پیلے رنگ کے ہوجاتے ہیں تو پھلوں کی کٹائی ہوتی ہے۔ کٹائی کرتے وقت ، پھل کو خراب  ہونے سے بچانے کے لئےبرداشت میں احتیاط کرنی چاہیے.

اس کے بعد پھلوں کو پانی یا پھپھوندی کش سے دھویں اور کشننگ میٹریل والے خانوں میں پیک کریں۔

کمرے کے درجہ حرارت پر انحصار کرتے ہوئے تقریبا 5- 6- دن تک پھل پک  جاتا ہے .چار سے پانچ ہفتوں سے زیادہ پھل کو صفر سے چا ر سینٹی گریڈ  پر نہیں رکھا جا سکتا.  اور انفرادی پھل پکنے کے لئے اخبار میں لپیٹے جاتے ہیں۔

پاپین نکالنا:

پاپین ایک پروٹولائٹک انزائم ہے جو کچےپپیتا سے حاصل کردہ دودھ لیٹیکس سے نکالا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں 400 ٹن پاپین پیدا ہوتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ پاپین کے بڑے صارف ہیں۔

کٹائی اور ذخیرہ کرنے کے بعد:

ایک بار فصل کاٹنے کے بعد ، پھلوں کو ان کے وزن ، سائز اور رنگ کی بنیاد پر درجہ بندی کیا جاتا ہے۔ پھل فطرت میں انتہائی ناساز ہیں۔ پپیتا 10-13 سینٹی گریڈ اور 85-90٪ نمی کے پر 1-3 ہفتوں کے عرصہ کے لئے ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

طریقہ کار: 90-100 دن پرانے ناپختہ پھل دودھ دار لیٹیکس کو نکالنے کے لئے تقریبا 2 ملی میٹر کی گہرائی کے 4-6 کٹورے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں ، لیٹیکس 5-6 ٹیپنگ سے جمع کیا جاتا ہے اور لیٹیکس کو چھان کر سورج میں خشک کیا جاتا ہے ڈرائر پاپین کے معیار اور درجے کا تعین رنگ اور انزایم سرگرمی (ٹائروسین یونٹ) کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

 

 

 

پودوں کی حفاظت اور بیماریوں کا انتظام:

خاص طور پر موسم گرما کے دوران کبھی کبھار کم ہونے کے واقعات کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ پھلوں کے درخت کو سکیل ، ترازو ، میلی بگ، ایفیڈز اور تھرپس جیسے کچھ کیڑے ہوتے  ہیں۔ تنوں اور پتیوں پر اسکیل کیڑے اور ملی بگ  بھی دیکھے گئے ہیں.

امراض:

انتھریکنوز (کولیٹروٹریمگلوزپوریڈز)

پاؤڈر پھپھوندی (اویڈیم کاریکسی)

کالر راٹ اور ویلٹ۔

نماٹوڈ  راٹ ناٹ (میلوڈوجن سپیشی)

 

وائرل امراض:

موزیک

لیف کرل۔

رنگ سپاٹ

پپیتا کی رنگ اسپاٹ وائرس عام ہے اور یہ کئی خطوں میں پپیتا کی پیداوار کے لئے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

پپیتے کے پھل کو کچا اور پکا دونوں صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ہی صورتوں میں انسانی صحت کے لیے بیش بہا فوائد کا حامل ہے۔وٹامن اے، وٹامن سی اور بے شمار معدنیات سے بھرے اس پھل کی تھوڑی سے مقدار ہی انسانی جسم کو درکار وٹامن سی کی روزمرہ مقدار کو پورا کرسکتی ہے۔سوڈیئم، کیلوریز اور نشاستہ کی کم مقدار کے باعث اس پھل کے اور بھی متعدد فوائد ہیں، تاہم کچھ صورتوں میں یہ صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔خیال رہے کہ درج ذیل منفی اثرات کا اطلاق ہر فرد پر نہیں ہوتا تاہم بیشتر اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

پپیتا فائبر سے بھرپور پھل ہے جو کہ قبض کے شکار افراد کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے تاہم اس پھل کا زیادہ استعمال صحت مند افراد کو بدہضمی اور ہیضے کا شکار بناسکتا ہے۔ اسی طرح اس پھل میں لیٹیکس نامی جز ہوتا ہے جو معدے میں جاکر درد کا باعث بن سکتا ہے۔یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسین کے مطابق جو لوگ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں، انہیں پپیتا کھانے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے جریان خون اور خراشوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔پپیتا بلڈ شوگر لیول میں کمی کے لیے جانا جاتا ہے بلکہ اچانک بہت زیادہ کم کردیتا ہے جو کہ ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض جو ادویات بھی استعمال کررہے ہوں، اس پھل کو کھانے سے قبل لازمی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اس پھل میں موجود جز پیپین کسی قسم کی مخصوص الرجی کا باعث بن سکتا ہے، کچھ افراد کو اسے کھانے پر جسمانی سوجن، چکر آنے، سردرد، خارش اور کھجلی جیسے عوارض کا سامنا ہوسکتا ہے۔اس پھل کا زیادہ استعمال نظام تنفس کے امراض جیسے دمہ، بلغم اور خرخراہٹ وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ماہرین حاملہ خواتین کو پپیتے کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں کیونکہ یہ بچے کی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *