KISSAN POST

پوٹاش کی اہمیت

تحریر ڈاکٹر عبدالوکیل

۔ پوٹاش کی فصلوں کے لیے کیا اہمیت ہے ؟

پوٹاش کی ایک ایسی اصطلاح ہے جو کہ پاٹاشیم کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔خاص طور پر جب ہم پوٹاشیم کو کھاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔پودوں کو جن سترہ اہم عناصر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان میں سے پوٹاشیم ایک ہے اور اس کی زیادہ مقدار پودوں کو چاہیے ہوتی ہے ۔پوٹاش ،پوٹاشیم کی کھادوں کے تخریبی کی کار کر دگی (Enzymes) اور تعمیری عوامل کے لیے بہت ضروری ہے ۔اور پودوں میں خامرے

بڑھاتاہے ۔پودوں کے خلیوں کے اندر مختلف قسم کے عناصر کا توازن بر قرار رکھتا ہے اور پودوں کے تناؤ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔یہ اس کے بنیادی افعال ہیں ۔اس کے علاوہ یہ پودوں کو مضبوط بناتا ہے ۔ضیائی تالیف کے عمل کو بڑھاتا ہے ۔اور جڑوں کو بھی مضبوط کرتا ہے ۔اگ خشک سالی یا کلر اور تھور والی زمین ہے ۔تو اس پودوں میں مدافعت پیدا کرتاہے ۔کیڑے مکوڑوں ور بیماریوں کے خلاف بھی پوٹاشیم پودوں میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے ۔اس کے اہم کاموں میں سے گنے کی فصل میں مٹھاس کو بڑھانا ہےاور دانے دار فصلوں میں یہ دانے کے اندر نشاستہ کی مقدار کو بڑھاتا ہے ۔اس سے نہ صرف ہماری فصلیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ ان کی بڑھوتری بھی زیادہ ہوتی ہے ۔اور پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔یہ پودوں میں تناؤ کو بڑھاتا ہے ۔جس پودے ماحول میں آنے والی اچانک تبدیلیوں کا آسانی سے سامنا کر سکتے ہیں ۔

 پاکستان کی زمینوں میں پوٹاش کی مقدار کیا ہے ؟

منرل سے بنی ہوئی ہے ۔جس میں پوٹاشیم زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے(Mica) پاکستان کی زمین زیادہ تر

جیسے جیسے فصلیں زمین سے پوٹاشیم کو استعمال کرتی ہیں تو زمین اس کی کمی ہوتی جاتی ہے ۔زیادہ پیداوار دینے والی فصلیں جب تسلسل کے ساتھ زمین پر لگائی جاتی ہیں تو اس سے زمین میں پوٹاشیم کی مقدار کم ہو جاتی ہے ۔پاکستان میں فاسفور اور نائٹروجنی کھادوں کی بلاشہ بہت ضرورت ہوتی ہے ۔لیکن ہماری زمین میں پوٹاشیم اب اُس حد تک موجود نہیں ہے جو کہ پودوں کی ضروریات پورا کر سکے ۔حال ہی میں پاکستان میں سروے کیا گیا جس میں یہ دیکھا گیا کہ ہماری زمین میں پوٹاشیم کی 40 فیصد تک کمی ہو چکی ہے ۔اس کیے پاکستان کی زمین میں اچھی پیداوار لینے کے لیے پوٹاشیم کی مقدار کم ہے ۔گندم کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پوٹاشیم کا استعمال کیا جائے ۔عام طور پر زمین میں پٹاشیم کی مقدار

120 پی پی ایم تک ہونی چاہیے ایسی فصلیں جن کو پوٹاشیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔جیسا کہ گنا اور مکئی ان کے لیے زمین میں پوٹاشیم کی مقدار 150 پی پی ایم تک ہونی چاہیے ۔پاکستان میں 40 فیصد زمینیں ایسی ہیں ۔جن پوٹاشیم 120 پی پی ایم سے بھی کم ہے اسلئے ایسی زمینوں میں پوٹاش لازمی طور پر ڈالنی چاہیے ۔

اگر 150 پی پی ایم تک مقدار کار ہوتو 70-60 فیصد زمینوں میں پوٹاشیم ڈالنی پڑے گی ۔اگر زیادہ پیداوار لینی ہوتو ہمیں 150 پی پی ایم تک فصلوں کے لیے پوٹاش کی مقدار اکھنا ضرور ی ہووگا ۔پوٹاش کی مقدار ہر سال پودوں میں جذب ہونے سے زمین میں کم رہ جاتی ہے ۔پنجاب میں ہر سال زمین سے 2 پی پی یم پوٹاش پودوں جذب ہوجاتی ہے ۔اس صورت کو دیکھتے ہوئے اگر 10 سال تک بغیر پوٹاش کھاد زمین میں ڈالے ہم فصل لیتے رہیں تو ہماری زمین میں 20 پی پی ایم تک کمی ہوجاائے گی ۔المختصر پاکستان کی 40 فیصد زمین ایسی ہے جس میں پوٹاش کی کمی ہے اور مسلسل اس کی کمی ہو رہی ہے ۔

3۔پاکستان میں پوٹاش کا استعمال کتنا ہے؟

پاکستان میں پوٹاش کا استعمال بہت ہی کم رہا ہے ۔اس کا استعمال 40 ٹن سے زیادہ کبھی نہیں دیکھا گیا ۔  پ 1-2’0پوٹاش فی ہیکٹر  تک اس کا استعمال ہے ۔70 فیصد کسان اسے استعمال ہی نہیں kg پاکستان میں

کرتے ۔اگر پچھلے سال کا ریکارڈ دیکھا جائے جو پوٹاش کی مقدار فروخت ہوئی ہے وہ “32 ہزار ٹن ” رہی ہے ۔اور اس سال ربیع فصل کی کاشت تک “20 ہزار ٹن ” رہی ہے ۔اگر حریف کی فصل اس میں ملالیں تو “30 ہزارٹن ” تک اس کی مقدار ہو جائے گی جو کہ بہت ہی کم ہے ۔اس مجوزہ کی مقدار زمین میں نہ ڈالنے سے نائٹروجنی کھادوں کا بھی پور افائدہ نہیں ہوت ا۔اگر پاکستان میں نائٹروجن اور فاسفور کے مقابلے میں پوٹاشیم کے استعمال کو دیکھا جائے تو یہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

4۔کن فصلوں میں پوٹاش اکا استعمال زیادہ ہے ؟

عام طور پر پاٹاش کا استعمال تو بہت کم ہے لیکن کچھ فصلوں میں کسان اس کا استعمال کر رہے ہیں ان میں مکئی میں اس کا (Tunnel Farming) ،آلو اور گنے میں کسی حد تک استعمال ہو رہا ہے ۔اس کے علاوہ

استعمال بہت زیادہ ہے ۔اس میں پوٹاش کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔اور کسان اس کا استعما ل کر رہے ہیں ۔

5۔ پوٹاش کا استعمال کم کیوں ہے ؟

 چلائی گئیں تھیں پوٹاش کے لیے بھی “Compain” جس طرح شروع شروع میں نائٹروجنی کے لیے

 کی ضرورت ہے ۔اس لئے علاوہ نائٹروجن فصلوں میں فوری تبدیلی لاتی  ہے اور “Compain” ایسی

پووٹاش کا اثر ایسا نہیں ہے ۔البتہ پیداوار پر اس کا اثر ضرور پڑتا ہے اس کے علاوہ نائٹروجنی کھادوں پر کسانوں کی سبسڈی دی گئی جس سے انہوں نے اس کا استعمال زیادہ کیا ہے اس کے برعکس پوٹاشیم کے لیے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا یا گیا اور لوگوں کے ذہنوں میں غلط فہمی بیٹھ گئی ہے کہ ہم نہری پانی استعمال کرتے ہیں تو اس کے استعمال کی ضرورت نہیں ۔اس کے علاوہ کسان اتنا دباؤ میں آیا ہوا ہے کہ وہ پیسے لگانے کے لیے راضی نہیں ہوتا ۔ان تمام وجویات کی بناء پر پوٹاش کا استعمال بہت کم ہے ۔

6۔کسانوں کا پوٹاش کی طرف رجحان کم کیوں ہے ؟

اگر کسان کو اس کی فصل کی کی صحیح داموں میں وصولی نہیں ہوتی تو وہ پوٹاش  کی طرف توجہ نہیں دیتا ۔کیوں کہ ایک تو اس کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں اور دوسرا اس کو اس بات کی یقین دہانی نہیں کہ میری فصل صحیح دام بک جائیگی یا نہیں تو وہ فصل پر جتنا ہو سکتا ہے کم خرچ کرتا ہے ۔ایک پہلو اس کا یہ بھی ہے کہ کسان کو پوٹاش کا براہ راست کوئی فائدہ نہیں نظر آتا ۔کیوں کہ پوٹاش پھلوں اور دانے کو جلدی خراب ہونے سے بچاتا ہے۔اس لئے اس کا فائدہ کسٹمر کو ہوتا ہے۔ گنے کو اگر دیکھا جائے تو اس کا فائدہ شوگر فیکٹری والوں کو ہوتا ہے کیو ں کہ یہ شوگر کی مقدار زیادہ کرتا ہے ۔اس طرح مکئی میں ہوتا ہے ۔پوٹاش کا اثر پیداوار پر یقیناً ہوتا ہے۔ لیکن اتنا نہیں ہوتا جس کی کسان توقع کر رہا ہوتا ہے ۔مثلاًاگر وہ 5000 روپے کی پوٹاش کی بوری فصل میں ڈال رہا ہے تو وہ چاہت اہے کہ اس سے 15 سے 20 ہزار روپے کا فائدہ ہونا چایئے ۔لوگوں کو پوٹاش کی اہمیت کا بھی اتنا پتہ نہیں ہے ۔ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پوٹاش کا استعمال کم ہے اور کسانوں کا پوٹاش کی طرف رجحان کم ہے ۔

۔گورنمنٹ پوٹاش کےاستعمال  میں اضافے کے لیے کیا اقدامات اُٹھا رہی ہے ؟

گورنمنٹ پوٹاش کے استعمال میں اضافے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی ہم خود کئی مر تبہ کہہ چکے ہیں کہ اس کو پالیسی میں شامل کیا جائے کہ لوگوں کو پوٹاش کی اہمیت سے باور کیا جائے ۔

ایف،اے،او، نے بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن گورنمنٹ اس بارے میں کوئی اقدامات نہیں لے رہی ۔نہ تو تحقیقی سیکٹر میں اس کا کام ہے ار نہ اس پر کوئی سبسڈی دی گئی ہے ۔پچھلے دنوں پنجاب گورنمنٹ نے ایک ٹوکن سسٹم متعارف کرایا جس کے تحت پوٹاش کھاد دی جائیگی لیکن اس سے بھی کوئی زیادہ فائدہ متوقع نہیں ۔

8۔بین الاقوامی اداررہ برائے پوٹاش (ائی ،پی،ائی) پاکستان میں پوٹاش کے فروغ کے لیے کیا کیا اقدامات سر انجام دے رہا ہے ۔؟

یہ ادارہ پاکستان میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔اسی کی دہائی میں اس ادارے نے کچھ تحقیقی پراجیکٹ کیے جس سے پتہ چلا کہ پاکستان میں اس کے استعمال کی ضرورت ہے ۔اس تحقیق سے ہم نے کوئی خاص فائدہ نہیں لیا ۔ہماری پیداوار انڈین پنجاب سے بھی کم ہے ۔وہاں پہ متوازن کھادوں کا استعمال ہو رہا ہے اور پوٹاش کا استعمال بہ نسبت ہمارے بہت اچھا ہے ۔پچھلے تین چار سال سے یہ ادارہ پاکستان میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے جس میں لوگوں کو آگاہی بھی دی گئی ہے کہ پوٹاش کا استعمال کریں ۔اس منصوبے کے تحت جو کام کیے گئے ہیں وہ در ج ذیل ہیں :۔

؎  تحقیق کرنے والوں کے لیے سیمینار اور کانفرنس کرائی گئیں ۔

 کرائے گئے ۔(Farmers Day) ؎فارمرز ڈے

؎فارمرز  اور ریسرچرز کی اکٹھی کارفرنسز کرائی گئیں تاکہ ان میں تعلق پیدا ہو ۔

؎فاطمہ فرٹیلائزر ،اینگرو فرٹیلائزر اور فووجی فرٹیلائزر سے مل کر انٹر شپ پروگرام شروع کیا تھا ۔جس میں زرعی گریجویٹ سٹوڈنٹس فارمرز کے دروازے پر جاکر ان کے مسائل پوچھنے اور ان کو کھادوں کے استعمال پر کسانوں کو مشورے دیتے ۔

؎کپاس کی فصل میں پوٹاشیم کے استعمال کیلئے کچھ ریسرچ پراجیکٹ کیے گئے تاکہ کپاس کی پیداوار کو بڑھایا جا سکے ۔

؎ پاکستان میں کھادوں کا سفارش کردہ نظام ٹھیک نہیں ہے ۔پوٹاش کا چونکہ زمین کی ساخت کیساتھ تعلق ہوتا ہے ۔اس لیے ریسرچ پراجیکٹ کے ذریعے سے کسانوں کو زمین کا تجزیہ کر کے پوٹاش کی خاص مقدار بتانے کی ضرورت ہے ۔یہ کام ابھی ابتدائی مر حلوں میں ہے ۔انشاءاللہ ایک دو سال تک پورا ہو جائے گا ۔

9۔پودوں کے علاوہ انسانوں اور جانوروں میں پوٹاش کا کیا کردار ہے ؟

انسانوں اور جانوروں میں بھی پوٹاش کا اہم کردار ہے ۔دنیا میں اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی لیکن پھر بھی  اس پر یہ کام ضرور ہو رہا ہے ۔یہ انسان کے اعصاب اور پٹھوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے ۔گردوں کے فعل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہڈیوں کو مضبوط کرتاہے ۔جسم میں تیزابیت اور اساسیت کے توازن کو بر قرار رکھتا ہے اور خلیوں کے فعل میں بھی مدد کرتا ہے ۔بلڈ پریشر اور دل کے افعال میں بھی اس کا کردار بہت اہم ہے ۔یہ ہماری غذامیں ایک ہم الیکٹرو لائٹ ہے ۔دل اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے پوٹاش کی غذائیت سے بھر پور سفارش کرداہ خوراک کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اس لیے انسانوں کی خوراک میں پوٹاش کی خاص مقدار کا ہونا ضروری ہے ۔

10۔پوٹاش کے استعمال کے لیے (ایم،او،پی اور ایس،او،پی،)میں سے کون سا ذریعہ بہتر ہے؟

امی ،او، پی ،جسے میموریٹ آف پوٹاش  (پوٹاشیم کلورائیڈ )کہتے ہیں ۔اور ایس ،او،پی جسے سلفیٹ آف پوٹاش کہتے ہیں ۔اس کی پوٹاشیم آف پوٹاش بھی کہتے ہیں ۔اس کو پوٹاشیم  کے ساتھ سلفیٹ پایا جاتا ہے ۔ایس ،و،پی، میں کلورائیڈ پایا جاتا ہے۔کلورائیڈ کچھ فصلوں کے لیے بہتر نہیں ہے ۔مثال کے طور پر آلو اور تمباکو ۔کلورائڈ کی وجہ سے پوٹاش نہ ڈالنا بہتر عمل نہیں ہے ۔حتیٰ کہ ایسی فصلیں جو کہ کلورائیڈ حساس ہوتی ہیں ۔ان میں بھی پوٹاش نہ ڈالنے سے جو پیداوار کم ہوتی ہے ۔وہ پوٹاشیم کلورائیڈ ڈالنے سے اتنی کم نہیں ہوتی ۔دوسرا یہ ہے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے زیادہ استعمال سے زمین کلر والی ہو جاتی ہے ۔

حالانکہ کلورائیڈ پر منفی چارج ہوتاہے ۔اور یہ نیچے زیر زمین چلا جاتا ہے ۔ہاں ایسے علاقے جہاں بارشیں کم ہوتی ہیں وہاں پر یہ زمین میں جمع ہو سکتا ہے اگر وہ بھی پندرہ بیس سال تک مسلسل ایم ،او،پی ،کا استعمال کیا جائے لیکن یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کلورائڈ پودوں کے لیے اہم عنصر بھی ہے ۔پودوں میں نمکیات اور پانی کے توازن کو بہتر کرنے کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے ۔الغرض ایم ،او، پی ، اکا استعمال ایس، او،پی ، کی نسبت اتنا اچھا نہیں ہے ۔لیکن ایس،او ،پی مہنگی ہونے کی وجہ سے ایم ،او ،پی ، کا استعمال ضرور کرنا چا ہیے تاکہ پوٹاش کی کمی کو پورا کیا جا سکے ۔

11۔پوٹاش کا استعمال بڑھانے کے لیے آپ کی کیا تجاویز ہیں ؟

پوٹاش کا استعمال چونکہ زمین کی ساخت سے تعلق رکھتا ہے اس لیے نقشہ بندی کر کے ہر علاقے کے لیے پوٹاش کی خاص مقدر کا تعین کرنا چاہیے ۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ وہاں پر کونسی فصلیں اگائی جا رہی ہیں ۔ہم نے اس پر کا شروع کیا ہے لیکن اس کیلئے فنانس کی ضرورت ہے ۔پوٹاش کے استعمال سے پھلوں اور دانوں کی شیلف لائف بڑھ جاتی ہے (یہ جلد خراب نہیں ہوتے )تو پاکستان میں چیزوں کی قیمت معیار کو دیکھ کر ہونی چاہیے اور اس میں یہ دیکھا جانا چا ہیے کھادوں کا متوازن استعمال رکھا گیا ہے کہ نہیں ۔کسان کو بھی اس کا حصہ ملنا چا ہیے نہ کہ صرف کسٹمر اس سے فائدہ اٹھا ئے ۔پوٹاش چونکہ پودوں کو اچانک موسمی تبدیلیوں کے خلاف سامنا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔خاص طور پر کپاس میں زیادہ گرمی کی وجہ سے فصل کو جو نقصان ہوتا  ہے ۔اس سے بچا جا سکتا ہے اور اسی طرح سخت سردیوں میں کورہ  سےپودوں کو بچایا جا سکتا ہے ۔اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے تا کہ اس (Frost)

کی اہمیت کو جان کر وہ پوٹاش کا استعمال کریں ۔پاکستان میں ایس،او،پی،اور ایم ،او،پی ،کی بحث کو ختم کر کے پوٹاش کا استعمال کریں ۔اس کے علاوہ گورنمنٹ کو چاہیے کہ جس طرح نائٹروجن کے فروغ کے لیے کسانوں کو سبسڈی دی گئی تھی تو اس کے لیے بھی سبسڈی دی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کا اس طرف رجحان ہو جب وہ ایک مرتبہ استعمال کرلیں گے ت واس کے فوائد سے آگاہ ہو جائیں  گے اور بعد میں یہ عام طور پر کسان استعمال کریں گے ۔

12۔اگر ہم اپنی زمینوں پر پوٹاش کا استعمال نہ کریں تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟

ہوتا رہتا ہے اوراس زمین میں پوٹاش کی کمی (Uptake) پوٹاش کا زمین سے پودوں میں انجذاب

ہو جاتی ہے ۔جس سے زمین کی ساخت خراب ہوجاتی ہے ۔یہ زمین کی ساخت کا حصہ ہے اگر ہم اسے نکالتے رہے (پودے جذب کرتے رہے )تو اس کی اصلی  ساخت خراب ہو جائے گی ہو سکتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے کہ ہماری زمینوں کی ساخت اتنی خراب ہو جائے کہ دوبارہ کاشت کے قابل ہی نہ رہیں ۔افریقہ میں اس طرح کی مثال موجود ہے ۔ان کی زمین کی ساخت خراب ہو چکی ہے اور وہ اس حالت میں میں پوٹاش نہیں “Mica” نہیں ہے کہ ان کو دوبارہ کاشت کے قابل بنایا جائے ۔دوسرا یہ کہ اگر ہم

 میں تبدیل ہو جائے گی ۔یہ ایسی منرل ہے کہ اگر ہم پوٹاش ڈالیں “Vermiculite” ڈالیں گے تو یہ

 ہو جائے گی پودوں کو نہیں ملے گی ۔امریکہ کی ایک اسٹیٹ میں ایسا ہو چکا ہے ۔“Fix” گے بھی سہی تو وہ

جہاں پر انہوں نے کافی عرصہ تک پوٹاش استعمال نہیں کی وہاں یہ تبدیلی آئی ہے ۔بعد میں 300 کلوگرام پوٹاش فی ہیکٹر کے حساب سے ڈالی ہے لیکن پھر بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا کیوں کہ وہ جتنی بھی پوٹاش ڈالتے ہو جاتی تھی تو اس لیے اگر ہم اپنی زمینوں میں پوٹاش نہیں ڈالیں گے تو ہماری زمینیں“Fix” تھے وہ

خراب ہو جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ زرخیزی سے محروم ہو جائیں گی ۔ایک اور بات جو میں بتانا چاہ رہا ہوں آج کل لوگ محلول بنا کر پوٹاش کی پودوں پر سپرے کرتے ہیں ۔اس سے پودے کو تھوڑا بہت ت وفائدہ ہوتا ہے لیکن زمین کو نہیں کیوں کہ یہ تھوڑی مقدار میں ہوتی ہے ۔ہمیں زمین کی پوٹاش کی بھوک کو بھی ختم کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ زرخیز رہے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *