KISSAN POST

سکھ چین INDIAN BEECH TREE

سکھ چین 

سکھ چین کا درخت ایک ایسا درخت ہےجسے میں ہمیشہ بناسپتی گھی کےمقابلے میں دیسی گھی کا لقب دیتا ہوں۔ یہ درخت تین سالوں میں چھاوں ۔ پھر چوتھے سال میں پھول دینا شروع کرتا تھا اور دس سال کی عمر میں مکمل درخت درخت بن جاتا ہے۔۔
دنیا کے بڑے سائنسدانوں نے پیوند کاری سے اس کی ایسی قسم تیار کی جو تین سال کے قلیل عرصے میں ہی مکمل درخت اور بھرپور پیداوار دے گی ۔۔
سکھ چین کا نام ہمارے پاکستان میں ہی پڑا۔۔ جو ایک مرکب لفظ ہے اور دو الفاظ یعنی سکھ اور چین سے مل کر بنا ہے جو تقریباً ہم معنی ہیں۔ سکھ ایک احساس ہے جو ہمیں کسی سے حاصل ہوتا ہے اور چین ایک کیفیت ہے۔
یہ دونوں ہمیں اس درخت کے سائے تلے ملتے ہیں

نباتاتی لاطینی زبان میں ‘‘پونگامیہ پائی نیٹا ’’ کہلانے والے اس درخت کو سکھ چین کا نام اسکی اسی چھاوں اور رغبت سے دیا گیا۔۔ اگر آپ نے اسے نظر بھر کر دیکھا ہے یا آپ اس کی بھرپور چھاؤں میں کچھ دیر کو سستائے ہیں تو یہ بات سمجھنے کیلئے ذرا بھی مشکل نا ہوگی ۔۔

سکھ چین کی چھاؤں بہت گہری اور ٹھنڈی ہوتی ہے۔ موسم بہار کے اختتام پر جب سورج سرکار اپنی سلطنت کے طول و عرض میں تپش کے کوڑے برسانا شروع کرتا ہے تو سکھ چین ہی ایک ایسا درخت ہے جو اگر ہمیں اپنی محبت بھری آغوش میں لے لے تو سورج سرکار سے سخت تپش سے با آسانی امان پائی جا سکتی ہے۔ انہی دنوں یہ اپنے نئے پتے نکالتا ہے ۔ بہت ہی ہلکے سبز رنگ کے خوبصورت پتوں سے چھن کر سورج کی تیز دھوپ ایک الگ ہی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ اور اس الگ سی روشنی میں سکھ چین کو صرف دیکھتے رہنا بھی باعث خوشی اور نرالے پن کا احساس دلاتا ہے
میں پچھلے کوئی دس سالوں سے اس درخت کے سحر میں مبتلا ہوں۔ کیونکہ دس سالوں سے یہ میرا ہم جولی ہے۔ اسکی گھنی چھاوں ، اسکی بھینی دیسی خوشبو اور اسکے بنے ہوئے مسواک سے خوب مستفید ہو رہا ہوں ۔ اس کے بنے مسواک کے کیا کہنے ۔۔ سبحان اللہ بڑا ہی اچھا ، مضبوط اور خوشبودار مسواک بنتا ہے۔ نرم شاخیں ۔ زبردست مضبوطی اور لچک ، دانت بالکل سفید کرنے کا مجرب نسخہ ہے۔۔۔
مسواک کرنے والے احباب اس سے ضرور واقف ہونگے

اپنے شجرہ نسب کے مطابق یہ ایک خاندانی درخت کہلاسکتا ہے۔ سکھ چین نباتات کے وسیع اور عظیم خاندان “فیب ایسی” کے لگ بھگ 19400 ارکان میں سےایک ہے اور خوب ہے۔ اسی خاندان کے اور بھی بہت سے پودے اور درخت ہماری خوراک کا حصہ ہیں جن میں لوبیہ، مٹر، جیسی سبزیاں ، چنے اور دالیں جیسی خوراکیں شامل ہیں

سکھ چین درخت کی شجرکاری بڑھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس کے پودے ہر نرسری سے با آسانی میسر آ جاتے ہیں۔ پرانے اونچے اور گھنے درختوں میں یہ مقبول ترین درخت ہے۔ اسکی خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے جتنا اونچا لے جانے کے بعد اسے ترتیب سے کٹاو کریں تو یہ با آسانی چھتری نما بن جاتا ہے۔۔ کانٹ چھانٹ کے دوران درخت گھنا بنایا جائے تو بارش کے وقت اسکے نیچے بیٹھ جائیں بارش کا پانی نیچے نہیں پہنچ سکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *