KISSAN POST

ترشاوہ پھلوں کی بیماریاں اور ان کا تدارک

ترشاوہ پھلوں کی بیماریاں اور ان کا تدارک

(الف)پھپھوندی سے پیدا ہونے والی بیماریاں
1۔نرسری کا مرجھاؤ
یہ بیماری نرسری کی حالت میں پودے پر حملہ کرتی ہے جس سے پودے کا زمین کی سطح کے قریب والا حصہ گلنا شروع ہو جاتا ہے۔ نرسری کے پودوں کا مرجھاؤ کئی اقسام کی پھپھوندی، فیوزیریم(Fusarium)، پیتھیم(Pithium)اور فائٹو فتھرا(Phytophthra) وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان کی وجہ سے نرسری میں نقصان کی شرح10سے25فیصد تک ہو سکتی ہے۔ پھپھوندی کے پھیلاؤ میں نامناسب زمین، نکاسی، آبپاشی اور کاشتی امور وغیرہ شامل ہیں۔

تدارک
نرسری کی کاشت کیلئے مناسب جگہ کا انتخاب کیا جائے۔
بہت زیادہ گھنے بیج کو بونے سے اجتناب کیا جائے۔
بیج کو کسی مناسب پھپھوندی کش زہر مثلاً ٹاپسن۔ایم یا ریڈومل گولڈ کا زہر لگایا جائے یا فارملین کو زمین میں ملا کر45دن تک پولی تھین سے ڈھانپ دیں تا کہ سورج کی روشنی کی شدت کی وجہ سے نقصان پھپھوندی کا خاتمہ ہو جائے۔
2۔ تنے سے گوند کا بہنا/نکلنا
فائٹو فتھرا نامی پھپھوندی کے شدید حملہ کی صورت میں پودے کے پتے اور پھل گر جاتا ہے اور پودے سوکھ کر ختم ہو جاتے ہیں۔ بیماری کا حملہ غیر پھلدار پودوں پر بھی ہوتا ہے لہٰذا اس کا مربوط تدارک بہت ضروری ہے۔

مربوط تدارک
اس کیلئے حفاظتی اور احتیاطی طریقہ جات جن میں مخصوص تشخیص، محفوظ و مؤثر کاشتی امور، قوتِ مدافعت رکھنے والے روٹ سٹاکس کا استعمال، بیماری سے پاک نرسریوں کی کاشت، نائے اور پرانے باغات میں مناسب پھپھوندی کش زہروں کا استعمال کیے جانے سے بیماری کے کنٹرول میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ قوت مدافعت رکھنے والی کھٹی کی اقسام مثلاً سہ برگہ کرائزو، ٹرائر اور وولکا میر آنہ پر تیار شدہ پودے اس بیماری کے تدارک کیلئے مؤثر ہیں۔ نئے باغات والے علاقے کو بیماریوں سے پاک رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ترشاوہ باغات کی نرسری بیماری سے مبرا ہو، نرسری باغات سے دور اور بیماری سے پاک زمین پر کاشت کی جائے اس مقصد کیلئے گرین ہاؤس میں نرسری تیار کی جائے۔ نرسری کی تیاری میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بیمار پودوں کو لگایا گیا پانی صحت مند پودوںکو نہ لگے۔ اس مقصد کیلئے اونچے سیڈ بیڈ اور پولی تھین کے بیگ استعمال کیے جائیں تا کہ نرسری کی منتقلی کے وقت بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ نرسری کیلئے کھٹی کے صحت مند پودووں کے پھل سے بیج نکالا جائے۔ بیج بونے سے پہلے مناسب پھپھوندی کش زہر لگائی جائے یا10منٹ تک گرم پانی (52ڈگری سینٹی گریڈ) میں ڈبو کر رکھا جائے۔ نرسری کی پیوند کاری کا عمل سطح زمین سے کم از کم 9انچ بلندی پر کیا جائے۔

کیمیائی تدارک
اس کے کیمیائی تدارک کیلئے موسم برسات میں پھپھوندی کش زہروں مثلاً ریڈومل اور تنے پر بورڈو پیسٹ اور متاثر پودوں پر ایلیٹ2گرام فی لیٹر پانی کے حساب سے مارچ اپریل اور ستمبر اکتوبر میں سپرے کریں۔

3۔ سرسوک(Citrus Whither Tip)
ترشاوہ پھلوں میں یہ بیماری پتوں پر نئی شاخوں، شگوفوں اور بعد میں پھل کے کیرے کی صورت میں حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ بیماری کولی ٹراٹیکم نامی پھپھوندی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بیمار پودے کے پتے شروع میں ہلکے سبز رنگ اور بعد میں بھورے ہو جاتے ہیں۔ شگوفوں پر حملہ کی صورت میں ان سے لگے پتے گر جاتے ہیں اور شاخیں خشک ہو کر مردہ ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً ان پر لگا ہوا پھل پکنے سے پہلے گر جاتا ہے۔ متاثر پتوں پر سڑن کے نشانات کے ساتھ ساتھ پتوں کے کچھ حصے نیم مردہ اور کھائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ نئی ٹہنیوں پر چمکیلی سرمئی رنگت ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً یہ شاخ اپنے پتے گرا دیتی ہے اور مر جاتی ہے۔پھول پیدا کرنے والے شگوفے حملہ ہونے کی صورت میں پھل پیدا نہیں کر سکتے۔ نمدار موسم میں گہرے رنگ کے دھبے اور گلابی رنگ کے نشانات پتوں کے کناروں پر اور رگوں کے ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں پھل گر جاتا ہے۔

انسداد
پودے کی اچھی صحت کیلئے معقول آبپاشی، مناسب کاشتی امور، مناسب غذا کی فراہمی، حفاظتی امور اور ناموافق موسمی حالات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔
پودے کے متاثرہ حصوں کو کاٹ کر جلا دینا چاہیے۔
موسم بہار کے شروع میں نئی پھوٹ پر بورڈو مکسچر بحساب ایک کلو گرام نیلا تھوتھا، دو کلو گرام چونا اور ایک سو لیٹر پانی کا سپرے کیا جائے یا کسی پھپھوندی کش زہر کا سپرے سفارش کردہ مقدار میں کیا جائے۔
4۔سٹرس اسکیب(Citrus Scab)
سٹرس اسکیب ترشاوہ پھلوں کی ایک اہم بیماری ہے یہ بیماری معاشی اہمیت کی حامل ہے اور اس کی وجہ سے22س55فیصد تک معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ بیماری کا حملہ پتوں، شاخوں اور پھل پر ہوا ہے۔ حملہ کی صورت میں پتوں پر نقطے کی طرح داغ بن جاتے ہیں جو کہ بعد میں نمدار ہونے کے بعد کھردرے ہو جاتے ہیں۔ اکثر نشانات عموماً پتے کے ایک طرف بنتے ہیں۔ پھل پر حملہ کی صورت میں کھردری تہہ بن جاتی ہے۔

انسداد
حملہ شدہ پتے، شاخیں اور پھل کو اکٹھا کر تلف کردینا چاہیے۔
موسم بہار کے شروع میں اور مون سون کے موسم میں بورڈومکسچر ایک کلو گرام نیلا تھوھدا، دو کلوگرام چونا اور ایک سو لیٹر پانی کا سپرے کیا جائے۔
(ب) بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریاں
1۔کوڑھ (Citrus Canker)
یہ بیماری ایک جرثومہ(Xanthomonos Compestris) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس بیماری کے حملہ کی صورت میں پتوں اور پھل پر بھورے رنگ کے دھبے بن جاتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں تمام پتے جھڑ جاتے ہیں۔ پھل کی جلد پھٹ جاتی ہے۔ ترشاوہ باغات میں جولائی، اگست کے مہینوں میں جب طوفانی بارشیں ہو رہی ہوں اور درجہ حرات20ڈگری سینٹی گریڈ سے35ڈگری سینٹی گریڈ ہو تو یہ بیماری بڑی تیزی سے پھیلتی ہے۔

انسداد
متاثرہ پتے اور شاخیں کاٹ کر جلا دی جائیں۔
پودوں پر کاپر آکسی کلورائیڈ یا پراوٹ زہر کا سپرے کیا جائے۔
ترشاوہ پودے اس نرسری سے حاصل کیے جائیں جو کینکر کی بیماری سے پاک ہوں۔
باغات کے اردگرد کھٹی کی باڑ نہ لگائی جائے اور تنوں پر بورڈو پیسٹ لگایا جائے۔
2۔پھل کا سبز پن یا بچ(Citrus Greening)
اس بیماری کی وجہ سے پودے کے پتے کسی خاص شاخ کی طرف سے پیلے یا زردی مائل سبز ہو جاتے ہیں۔ پتے چھوٹے اور زنک کی کمی والی علامات ظاہر کرتے ہیں جن میں پتوں کی رگیں موٹی اور ابھری ہوئی ہوتی ہیں۔ پھل چھوٹا اور چھلکا موٹا بے ذائقہ، بدشکل اور آخر تک ایک طرف سے سبز رہتا ہے۔ جون، جولائی کے موسم میں جب ہوا میں نمی کا تناسب48سے58فیصد اور درجہ حرارت31سے33سینٹی گریڈ ہو تو یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے۔ بیماری کے پھیلانے میں آکاس بیل(Cuscuta)اور سٹرس سلا ویکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

انسداد
پودے صحت مند اور تصدیق شدہ نرسری سے حاصل کریں۔
سٹرس سلا کو کنٹرول کریں۔
پودوں میں زنک کی کمی دور کرنے کیلئے زنک استعمال کریں۔

بیمار پودوں پر اوکسی ٹیٹراسائکلین (Oxytetracycline) کا سپرے یا تنوں میں ٹیکے لگائے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *